ساخت وبلاگ جدید
ساخت وبلاگ جدید و حرفه ای در چند ثانیه

نتایج جستجو برای عبارت :

يا حجت اللہ شکوانا اليک

کلیپ بسیار زیبا با صدای محمد حسین خلیل
یا حجة الله شکوانا إلیک
أدرکنا أدرکنا ، لبیک لبیک
جار علینا امان یا مولای یا مهدی (عج)
نصرخ یابن الحسن یا مولای یا مهدی (عج)
أمل المستضعفین یا مولای یا مهدی (عج)
یا نداء الثائرین یا مولای یا مهدی (عج)
قلوب الأطفال تطوق إلیک
أدرکنا أدرکنا ، لبیک لبیک 
متى الفرج یُ یا مولای یا مهدی (عج)
و یفرح المؤمنون یا مولای یا مهدی (عج)
و یزول المجرمون یا مولای یا مهدی (عج)
بقیة الله شکوانا إلیک
أدرکنا أدرکنا ، لبیک لبی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا تعارف:
حضرت محمد ،مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سن (570ء) میں ربیع الاول کے مبارک مہینےمیں 17 تاریخ  کو بعثت سے چالیس سال پہلے مکہ میں پیدا ہوئے۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا تعلق قریشِ عرب کے معزز ترین قبیلہ بنو ھاشم سے تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے والد عبداللہ بن عبدالمطلب کا انتقال آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیدائش سے چھ ماہ پہلے ہوگیا تھا۔ والدہ کا نام حضرت آمنہ
بسم  اللہ الرحمن الر حیم
 
حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سن (570ء) میں ربیع الاول کے مبارک مہینےمیں 17 تاریخ  کو بعثت سے چالیس سال پہلے مکہ میں پیدا ہوئے۔
خاندانِ مبارک
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا تعلق قریشِ عرب کے معزز ترین قبیلہ بنو ھاشم سے تھا۔ اس خاندان کی شرافت ، ایمانداری اور سخاوت بہت مشہور تھی۔ یہ خاندان حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین پر تھا جسے دینِ حنیف کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے والد عبداللہ بن عبدالمطلب ا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ہفتہ وحدت
امت اسلامیہ کی یکجہتی کا محور:
پیغمبر اسلام (ص)کی شخصیت عالم خلقت کا نقطہ کمال اور عظمتوں کی معراج ہے ۔ خواہ کمالات کے وہ پہلو ہوں جو انسان کےلئے قابل فہم ہیں جیسے انسانی عظمت کے معیار کے طور پر عقل، بصیرت، فہم، سخاوت، رحمت اور درگذر وغیرہ  خواہ وہ پہلو ہوں جو انسانی ذہن کی پرواز سے ما ورا ہیں یعنی وہ پہلو جو پیغمبر اسلام (ص) کو اللہ تعالی کے اسم اعظم کے مظہر کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں یا تقرب الہی کے آپ کے درجات کی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
واقعہ غدیر کامختصر تعارف
"غدیر خم " مکہ مکرمہ اورمدینہ منورہ کے درمیان واقع ایک مقام کا نام ہے جہاں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر حضرت  علی علیہ السلام کا مسلمانو ں کا " مولی اور سرپرست " کے عنوان سے تعارف کروایا اور آپ کی ولایت کا اعلان فرمایا ۔ ۱۸ ذوالحجۃ کا  دن اسی واقعہ  کی مناسبت سے شیعیا ن علی علیہ السلام کے درمیان عید غدیر  کے طور پرمشہور ہے ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے "حج
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عزاداری اور اس کی ترویج  میں ہمارا کردار
خدا وند کریم نے  انسان کی ہدایت کے لیے ہر طرح کا انتظام اور وسائل فراہم کیے ہیں۔ بعض دفعہ  اس ھدایت کو مستقیما  ہم تک پنہچایا  اور  بعض دفعہ اس ھدایت کو کچھ امور میں پوشیدہ کر دیا ۔ ہدایت کے یہ تمام ذرایع فراوان اور سب کی دسترس میں ہیں ۔  ان سےکی جستجو کو انسان کی فطرت میں رکھ دیا ہے  اور ہر انسان اپنی اپنی بساط کے مطابق اس  سے فایدہ اٹھاتا ہے ۔ ہر انسان کا کمال یہ ہے کہ وہ کس حد تک
 
 
بسم اللہ الرحمن الرحیم
 
 
۸     ذالحجہ  روز تَرویه
 
آٹھویں تاریخ کو یوم ترویہ کہتے ہیں ۔کیوں کہ حجاج اس دن اپنے اونٹوں کو پانی سے خوب سیراب کرتے تھے ۔تاکہ عرفہ کے روز تک ان کو پیاس نہ لگے۔یا اس لئے اس کو یوم ترویہ(سوچ بچار)کہتے ہیں ۔کہ سیدنا حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیٰ نبینا علیہ الصلوٰة والسلام نے آٹھویں ذی الحجہ کو رات کے وقت خوا ب میں دیکھا تھا کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے حکم دیتا ہے کہ اپنے بیٹے کو ذبح کر۔ تو آپ نے
۱۳۵- وَ قَالَ امیر المؤمنین علی ( علیه السلام ) : مَنْ أُعْطِیَ أَرْبَعاً لَمْ یُحْرَمْ أَرْبَعاً مَنْ أُعْطِیَ الدُّعَاءَ لَمْ یُحْرَمِ الْإِجَابَةَ وَ مَنْ أُعْطِیَ التَّوْبَةَ لَمْ یُحْرَمِ الْقَبُولَ وَ مَنْ أُعْطِیَ الِاسْتِغْفَارَ لَمْ یُحْرَمِ الْمَغْفِرَةَ وَ مَنْ أُعْطِیَ الشُّکْرَ لَمْ یُحْرَمِ اِّیَادَةَ .
قال الرضی : و تصدیق ذلک کتاب الله قال الله فی الدعاء ادْعُونِی أَسْتَجِبْ لَکُمْ و قال فی الاستغفار وَ مَنْ یَعْمَل
بسم اللہ الرحمن الرحیم
 
 
نام مبارک:   فاطمہ سلام اللہ علیہا
والد گرامی: سید المرسلین، خاتم النبین حضرت محمد مصطفیﷺ
والدہ ماجدہ: خدیجہ بنت خویلد، یہ معظمہ خاتون ام المومنین اور آئمہ معصومین علیہم السلام کی جدہ گرامی اور نبی اکرم کی پہلی زوجہ ہیں جنہوں نے اپنے جان و مال کے ذریعے رسالتمآبﷺ کی خدمت اور اسلام کی آبیاری کی۔ اسی وجہ سے خداوند متعال نے آپ کو مقدس آسمانی خواتین میں قرار دیا۔
 کنیت: ام ابیہا، ام الحسن، ام الحسنین، ام المحسن، ام ال
ہو سکے تو یہ وصیت ہے نبھانا اے علی
غم میں زہرا کے نہ دل اپنا جلانا اے علی
دمِ رخصت یہ فقط آپ سے کہنا ہے علی
رات کے وقت مجھے غسل و کفن دینا تمہی
ہو جنازے میں نا شامل میرے کوئی بھی شقی
قبر بھی دنیا سے رکھنا اے علی تم مخفی
بہرِ رب میری وصیت کو نبھانا اے علی
ادامه مطلب
ہو سکے تو یہ وصیت ہے نبھانا اے علی
غم میں زہرا کے نہ دل اپنا جلانا اے علی
دمِ رخصت یہ فقط آپ سے کہنا ہے علی
رات کے وقت مجھے غسل و کفن دینا تمہی
ہو جنازے میں نا شامل میرے کوئی بھی شقی
قبر بھی دنیا سے رکھنا اے علی تم مخفی
بہرِ رب میری وصیت کو نبھانا اے علی
ادامه مطلب
فقہا کی حکمرانی کی مختصر تاریخ
وہ ولایت جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ اور ائمہ علیہم السلام کے لیے ثابت ہے وہی ایک فقیہ کے لیے بھی ثابت ہے اس بات میں اس وقت تک کوئی شک و شبہ نہیں کیا جا سکتا جب تک کوئی دلیل اس کے خلاف نہ ہو۔
ادامه مطلب
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حضرت  فاطمہ زھرا کا خطبہ غرّہ{فدکیہ}
جس وقت حضرت ابوبکر نے خلافت کی باگ ڈور سنبھالی اور باغ فدک اپنے قبضہ میں کرلیا، جناب فاطمہ (س) کو خبر ملی کہ خلیفہ نے سرزمین فدک سے آپ کے نوکروں کو ہٹا کر اپنے کارندے معین کردئیے ھیں تو آپ نے چادر اٹھائی اور با پردہ ھاشمی خواتین کے جھرمٹ میں مسجد النبی (ص) کی طرف اس طرح چلی کہ نبی (ص) جیسی چال تھی اور چادر زمین پر خط دیتی جا رہی تھی۔
جب آپ مسجد میں وارد هوئیں تو اس وقت جناب ابو بکر، مھاجرین
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا تعارف
ابو عبداللہ ، جعفر بن محمد بن علی بن الحسن بن علی بن ابی طالب علیہ السلام معروف بہ صادق آل محمد شیعوں کے چھٹے امام ہیں ۔ جو کہ اپنے والد امام محمد باقر علیہ السلام کی شہادت کے بعد 7 ذی الحجہ سن 114 ھ ق کو آنحضرت کی وصیت کے مطابق امامت کے منصب پر فائز ہوۓ ۔
امام جعفر صادق (ع) جمعہ طلوع فجر کے وقت اور دوسرے قول کے مطابق منگل 17 ربیع الاول سن 80 ھ ق کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوۓ ۔[1]
آنحضرت کی وا
یوں لفظ مستعار ہیں قرآن کے لئے
لکھنی ہے منقبت  شہِ ذیشان کے لئے
تعمیر کرکے کعبہ یہ کہنے لگے خلیل
آمادہ ہوگیا ہے یہ مہمان کے لئے
بوجہل و بولہب  کے لئے در بنا جدار
دیوار در ہوئی بنِ عمران کے لئے
قد افلح کی کر کے تلاوت بتا دیا
بن کے سند یہ آئے ہیں ایمان کے لئے
محراب ہو یا معرکہِ کارزار ہو
خود کو فنا کئے ہیں یہ یزدان کے لئے
دے کر زبان میثمِ تمار نے کہا
تخلیق ہم ہوئے تھے اسی مان کے لئے
ہم نے کبھی بھی عشق کا سودا نہیں کیا
بس اک عمل یہ لائے ہیں میزان کے لئ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عید مباہلہ
۲۴ ذی الحجہ عید مباہلہ کا دن ہےاس دن رسول خدا (ص) نے نصاریٰ نجراں سے مباہلہ کیا  اور  اسلام کو عیسایت پر کامیابی عطا کی۔
فتح مکہ کے بعد پیغمبر اسلام (ص) نے نجراں کے نصاریٰ کی طرف خط لکھا جس میں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ نصاریٰ نجراں نے اس مسئلہ پر کافی غور و فکر کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ ساٹھ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو حقیقت کو سمجھنے اور جاننے کے لئے مدینہ روانہ ہو۔
نجران کا یہ قافلہ بڑی شان و
آیا ارکان امامت شیعی، «ضروری» است یا «نظری»؟!
مقالہ: آیت اللہ کمال حیدری
مبحث اول : اصول و مقوّمات مکتب تشیّع اثناعشری
بر اساس آنچہ که شیخ مفید در کتاب «اوائل المقالات» آوردہ و سایر بزرگان شیعه نیز همان مطالب را پذیرفته اند، می توان گفت ارکان مذهب شیعہء دوزاده امامی، در چهار اصل مهم خلاصه می شود، به طوری که هر کس منکر یکی یا همہء آنها شود، شیعه محسوب نمی گردد!
ادامه مطلب
آیا ارکان امامت شیعی، «ضروری» است یا «نظری»؟!
مقالہ: آیت اللہ کمال حیدری
مبحث اول : اصول و مقوّمات مکتب تشیّع اثناعشری
بر اساس آنچہ که شیخ مفید در کتاب «اوائل المقالات» آوردہ و سایر بزرگان شیعه نیز همان مطالب را پذیرفته اند، می توان گفت ارکان مذهب شیعہء دوزاده امامی، در چهار اصل مهم خلاصه می شود، به طوری که هر کس منکر یکی یا همہء آنها شود، شیعه محسوب نمی گردد!
ادامه مطلب
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
 
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی جَعَلَنَا مِنَ الْمُتَمَسِّکِینَ بِوِلاَیَةِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَ الْأَئِمَّةِ عَلَیْهِمُ السَّلاَمُ
تمام مومنیین کو عید ولایت ،عید ابلاٰغ ، عید اتمام نعمت ،عید سادات ، عید سعید غدیر کی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ اللہ ہم سب کو  متمسکین ولایت مولا امیر المومنین ع کے ساتھ محشور فرمائے۔(امین).
عید غدیر کے اعمال کی تفصیلات کی PDF فایل مندرجہ لینک سے حاصل کر سکتے ہیں:
 
اردو فایل کا لنک: htt
مفید کتب:
     1۔حدیث اقتداء کی حقیقت 
     مؤلف: آیت اللہ علی میلانی 
     ڈونلوڈ:

     2۔خلافت ابوبکر کا تحقیقی جائزہ 
     مؤلف:آیت اللہ علی میلانی 
     ڈونلوڈ: 

    3۔پیغمبر اکرم کا جانشین ؟ 
    مؤلف:آیت اللہ علی میلانی 
     ڈونلوڈ: 

4۔آفتاب هدایت در رد رفض و بدعت
  زبان:اردو
 مؤلف:مولوی محمد اکرم الدین دبیر
 ڈونلوڈ: 


 5۔تجلیات صداقت بجواب آفتاب هدایت در رد رِفض و    بدعت
  زبان:اردو
 مؤلف:آیت اللہ العظمی محمد حسین نجفی
 ڈونلوڈ: 

6۔اث
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مقالہ ڈاونلوڈ کرنے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کریں:for download this PDf  file click on this link
روایات اور تاریخ کے آئینہ میں اربعین  امام حسین  ع  کا    تحقیقی جایزہ
تمهید
  تاریخ سے ملتا ہے کہ  واقعہ عاشورہ سے پہلے چہلم کو جسطرح آجکل مناتے ہیں  اسکا اصلاًوجود ہی نہیں تھا یا اگر چہلم کو مناتے بھی تھے تو وہ امام حسین ع کے چہلم کی طرح نہیں تھا ۔اس سے پہلے کہ اس موضوع پر بات کی جائے ایک روایت کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے ۔امام حسن عسکری علیہ ا
جو عشق میں حیدر کے گرفتار ملے گا
اللہ و محمد کا وفا دار ملے گا
جو عزمِ ولایت کا علم دار ملے گا
باطل سے وہی بر سرِ پیکار ملے گا
جس شخص کے آئینہِ فطرت پہ نہیں گرد
خم خانہِ حیدر کا وہ مے خوار ملے گا
حیدر کی ولادت کی گھڑی آنے تو دیجے
در آپ کو در سینہِ دیوار ملے گا
پیدائشِ حیدر ہے یا معراج کی شب ہے
مطلوب جہاں طالبِ دیدار ملے گا
نیند آئے گی تلواروں کے سائے میں علی کو
جب نفس کا خالق سا خریدار ملے گا
یہ عشق کی وادی ہے سقیفہ نہیں واعظ
ہر شخص یہاں میثمِ تمار م
نوحه بی بی زهرا س
بسم اللہ الرحمن الرحیم   ہم تمام مومنین کی طرف سے رسول گرامی ص اور  امام زمانہ عج کی خدمت میں ان ایام پر ملال شھادت بی بی دو عالم س  کی تسلیت و تعزیت پیش کرتے ہیں. اللہ ہم سب کو آپ کی صحیح معرفت عطا فرمائے اور ہمیں اپ کی سیرت طیبہ پر چلنے کی توفیق عطا فرما. آمین 
متاسفانه مرورگر شما، قابیلت پخش فایل های صوتی تصویری را در قالب HTML5 دارا نمی باشد.توصیه ما به شما استفاده از مروگرهای رایج و بروزرسانی آن به آخرین نسخه می باشدبا این حا
آن هنگامی که هیزم آوردند ، در را آتش زدند و به درون خانه حمله ور شدند ، فاطمه (س) بین در و دیوار، فرمود : « یا فضّه الیک فخذینی » دقت کنید . نفرمود : فضه بیا، فرمود : « یا فضّه خذینی » یعنی فضه مرا بگیر، یعنی دارم می افتم ، بیا مرا بگیر « یا فضّه الیک فخذینی فقد و الله قتل ما فی أحشائی من حمل» فضه ، به خدا محسنم سقط شد.
وای من و وای من و وای من 
میخ دَر و سینه ی زهرای من
۳۰- وَ قَالَ الامام علی علیه السلام  :  وَ سُئِلَ ( علیه السلام ) عَنِ الْإِیمَانِ فَقَالَ
الْإِیمَانُ عَلَی أَرْبَعِ دَعَائِمَ عَلَی الصَّبْرِ وَ الْیَقِینِ وَ الْعَدْلِ وَ الْجِهَادِ وَ الصَّبْرُ مِنْهَا عَلَی أَرْبَعِ شُعَبٍ عَلَی الشَّوْقِ وَ الشَّفَقِ وَ اُّهْدِ وَ التَّرَقُّبِ فَمَنِ اشْتَاقَ إِلَی الْجَنَّةِ سَلَا عَنِ الشَّهَوَاتِ وَ مَنْ أَشْفَقَ مِنَ النَّارِ اجْتَنَبَ الْمُحَرَّمَاتِ وَ مَنْ زَهِدَ فِی الدُّنْیَا اسْ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
امام سجاد علیہ السلام کی شھادت
امام سجاد علیہ السلام  کامختصر تعارف
ہمارے چوتھے امام حضرت امام علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب علیہم السلام  ، جو سجاد کے نام سے مشہور ہیں ۔ آپ علیہ السلام  کی ولادت با سعادت ۳۸ ھ ق کو مدینہ منورہ میں ہوئی  اور آپ علیہ السلام نے 25 محرم ۹۴ ھ ق  یا  95 ه ق میں ولید بن عبد الملک  کے ذریعہ  دئیے  گئی زہر جفا  سے شہادت پائی  اور آپ کو بقیع میں امام حسن مجتبی ٰعلیہ السلام کے پہلو میں دفن کیا گیا۔
بسم الله الرحمن الرحیم
پست چهارم 
سلسله مباحث سبک زندگی اسلامی:
عالم حسابی دارد.
با خلاف، مزاج بہ هم میخورد.
مزاج بہ هم بخورد، کار، مشکل می شود.
آنهایی کہ باید برای من و شما دعا کنند آنها هم عبدند؛ تصمیم گیر نظام هستی که نیستند.
اینها باید بہ اذن اللہ چنین کارهایی کنند.
بر اساس چینش عالم، این باید مریض باشد؛ هیچ دعایی برای او کارساز نیست.
  Shakhehtoba @ 
چہ شده الآن با اینهمہ پیشرفت پزشکی مادر باردار باید استراحت مطلق باشد؟ چرا اینجوری شده؟ با این م
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حضرت معصومہ (س) کا تعارف
حضرت معصومہ (س) شیعوں کے ساتویں امام موسی بن جعفر(س) کی بیٹی ہیں۔ آپ کی والدہ گرامی حضرت نجمہ خاتون ہیں، حضرت معصومہ (س) اول ذیقعدہ ۱۷۳ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئی ہیں-
آپ کا شمار اہل بیت رسول (ص) کی بلند مرتبہ خواتین میں ہوتا ہے ۔حضرت معصومہ (س) نے اپنے بھائی حضرت امام رضا (ع) کے خراسان آنے کے ایک سال بعدان سے ملاقات کی خاطر مدینے سے خراسان کا سفر کیالیکن سفر کے دوران علالت کی وجہ سے شہر قم میں قی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حضرت امام جواد علیہ السلام کا تعارف:
ابوجعفر محمد الجواد ابن علی الرضا بن موسی الکاظم بن جعفر الصادق بن محمد الباقر بن علی زین العابدین بن الحسین بن علی بن ابی‌طالب علیہم السلام  ،بعض علماء کابیان ہے کہ آپ بتاریخ ۱۰  رجب المرجب ۱۹۵ ھ بمطابق ۸۱۱ ء یوم جمعہ بمقام مدینہ منورہ متولد ہوئے تھے ۔[1]
شیخ مفید اور نوبختی کی روایت کے مطابق سال ۱۹۵ہجری میں ماہ مبارک رمضان میں  اس دنیا میں تشریف لائے ۔[2]
حضرت امام، محمدتقی علیہ ال
بسم اللہ الرحمن الرحیم
 
کنیت اور القاب 
امام حسن عسکری علیہ السلام کی کنیت "ابومحمد" ہے جبکہ مختلف کتب میں آپ (ع) کے متعدد القاب ذکر ہوئے ہیں جن میں مشہورترین "عسکری" ہے جس کا سبب شہر سامرا کے محلہ "عسکر" میں آپ (ع) کی رہائش یا بالفاظ دیگر "قلعہ بندی" ہے۔ "زکی" یعنی پاک و تزکیہ یافتہ، آپ (ع) کا دوسرا مشہور لقب ہے۔
 
ادامه مطلب
پارت۱
ناراحتم؟
اره
دلخورم؟
اره
دل گرفته ام؟
اره. حتی دل شکسته
چند میخری دل شکستمو؟
پارت ۲
استرس داری؟
نه
هیجان چی؟
ن
اصن حسی داری؟
ن
اصلا برات مهمه؟
ن!!
برام مهم نیست!

+ خدایا. وقتی تو منو میبینی، چه شکایتی کنم؟
وقتی حالمو میدونی، چی از حالم برات بگم؟
وقتی میدونی تو ذهنم تو قلبم چه خبره
وقتی میدونی ازت چه چیزایی میخوام
وقتی فقط و فقط تویی که میتونی منو به عرش یا فرش برسونی
وقتی قدرت مطلق عالم تویی
چه نیازی دارم ب کسی ک باهاش درد و دل کنم؟
چه نیاز
صحیح ، صریح اور متفق علیہ حدیث "غدیر” کے مختلف صیغوں کے بارے میں بحث و تمحیص کے دوران یہ مشخص ہو جاتا ہے کہ لفظ "مولا” کے دو معنوں کو مدنظر رکھا جا سکتا ہے ۔پہلا معنی :”الاولی بالتصرف” یعنی حکومت کا زیادہ حقدار اور لائقاولی بالتصرف ایک ایسا معنی ہے کہ جسے ہم نبی اکرم(ص) کے اس قول سے سمجھ سکتے ہیں :” یا بریدۃ ألست أولی بالمؤمنین من أنفسھم؟ قلت: بلی یا رسول اللہ. قال: من کنت مولاہ فعلی مولاہ”
ادامه مطلب
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حضرت  امام موسی بن جعفر بن محمدبن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب علیہم السلام کا میلاد مسعود سات صفر  ۱۲۸ ھ ق کو سرزمین ابواء   میں ہوا جو کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے۔ [1] آپ کی مادر گرامی کا نام  " حمیدہ " تھا ۔[2]  آپ کا نام  موسی اور کنیت  ابوالحسن اول ، ابوالحسن ماضی ، ابو ابراہیم ، ابو علی اور  ابو اسماعیل ہے   ۔ آپ کے القاب  کاظم ، عبد صالح ، نفس زکیہ ، زین المجتہدین ، وفی ، صابر ، امین اور زاہر  ہیں ۔
ابن شہر آشوب
عزاداری اور ہمارے فرآئض
 
بسم اللہ الرحمن الرحمن
از قلم سید رضا حسین رضوی
مقدمہ
ماہ محرم کی آمد  سے پہلےمحبین اہلبیت (ع) و عاشقان حسین(ع) اپنے اپنے طریقوں سےمحرم کے استقبال کا انتظام کر تےہیں۔ عوامی طبقہ منتظر  ہوتا ہے کہ سید الشھدا ع  کا غم منا کر، ان  کے پیغام کو اپنی زندگیوں کے لیےمشعل راہ قرار دے۔
اسی طرح ایک طبقہ ان مخلص   منتظمین کا ہے جو اس کار خیر کو  ایک مذھبی ذمہ داری سمجھتا ہے  اور اپنی پوری جاں فشانی کے ساتھ مجالس حسین(ع) کے انعقاد
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی شھادت
ولادت باسعادت
علماء کابیان ہے کہ امام المتقین حضرت امام محمدتقی علیہ السلام بتاریخ ۱۰/ رجب المرجب ۱۹۵ ھ بمطابق ۸۱۱ ء یوم جمعہ بمقام مدینہ منورہ متولد ہوئے تھے [1]۔
جناب شیخ مفیدعلیہ الرحمة فرماتے ہیں چونکہ حضرت امام علی رضاعلیہ ا لسلام کے کوئی اولادآپ کی ولادت سے قبل نہ تھی اس لئے لوگ طعنہ زنی کرتے ہوئے کہتے تھے کہ شیعوں کے امام منقطع النسل ہیں یہ سن کرحضرت امام رضاعلیہ السلام نے
سید بن طاووس نقل کرده است که امام حسن علیه السلام برای برآورده شدن خواستههایش از خدا [صفحه 245 ] چنین دعا میکرد:قال علیه السلام: یا من الیه یفر الهاربون و به یستانس المستوحشون صل علی محمد و اله و اجعل انسی بک فقد ضاقت عنی بلادک واجعل توکلی علیک فقد مال علی أعدائک اللهم صل علی محمد و ال محمد و اجعلنی بک أصول و بک اجول و علیک اتوکل والیک انیب. اللهم و ما وصفتک من صف? أو دعوتک من دعاء یوافق ذلک محبتک و رضوانک و مرضاتک فاحینی علی ذلک وامتنی علیه و ما کر
حضرت امام موسییٚ کاظم علیہ السلام
تحریر :مصطفی علی فخری
حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ، رسول مقبول حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتویں جانشین اور ہمارے ساتویں امام ہیں ۔سلسلہ عصمت کی نویں کڑی ہیں.
آپ کے والد گرامی حضرت امام جعفر صادق علیه السلام اور مادر گرامی حضرت بی بی حمیده  خاتون هیں جو مکتب جعفری کے تربیت یافته هونے کے ناطے طهارت باطنی اور پاکیزگی روح کے اعلا درجات تک پهنچ گئی تھیں که امام جعفر صادق علیه السلام نے ان
بسم اللہ الرحمن  الرحیم
 ماہ رجب المرجب کاغاز
رجب المرجب کے مہینے کا تعارف
قمری  سال کے ساتویں مہینہ کا نام رجب ہے قرآن مجید میں چار مہینوں کو "ماہ ہائے حرام" یعنی حرمت والے مہینوں کے نام سے یاد کیا گیا ہے کہ اُن میں سے ایک مہینہ کا نام رجب ہے اور اس ماہ میں جنگ و جدال کرنا حرام ہے۔)[1](
ماہ رجب کو مختلف خصوصیات اور رتبوں کے اعتبار سے اور اس مہینے کے معنوی پہلووں  کو مدنظر رکھتے ہوئے اور بھی چند نام دیے گئے ہیں ۔ جیسے "شہر الاستغفار)[2](" یعنی استغفا
ارنی انظر الیک.
پی نوشت:
یادمه بهش گفتم می خوام بهت هدیه بدم اما دستم بهت نمیرسه
گفت به جای من بده به کسایی که منو دوست دارن
فلیصل شیعتنا 
الان یادم افتاد وقتی به خیالم خواستم چنین کاری بکنم باز هم با دعوت نامه او اجازه پیدا کردم و از طرف آستان او راهی شدم
چرا همیشه یک قدم جلوتری.
فرمود: یک دعا را انتخاب کن و تا آخر عمر در یک وقت مشخص، روزانه، بخوان. اگر حال خوشی نداشتی، تا جایی که حرجی نیست قضایش را به جا بیاور. پیشنهادشان زیارت امین‌الله بود.
روزهای اول غریبه بودم؛ با کلمات، با بار معنایی‌شان، با چینش جملات. بعدتر به لطف خدا حواسم جمع‌تر شد که مثلاً وقتی می‌خوانیم ".جاهدت فی‌الله، و نه "جاهدت فی سبیل‌الله". این خودش دریایی از معانی ست. جایی که می‌خوانیم "سبل الراغبین الیک شارعة"، از شوقِ باز بودن راه‌ها به سمت
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سوانح حیات
سید العلماء سید علی نقی نقوی نجفی معروف نقن صاحب
پیدائش:            26 رجب 1323 ھ مطابق 1905ء لکھنؤ
وفات:             یکم شوال روزعید الفطر ۱۴۰۸ھ/۱۸مئی ۱۹۸۸ء
لکھنؤ.
وجۂ وفات:        علالت
مدفن:              لکھنؤ
رہائش:              لکھنؤ
قومیت:            بھارتی
تعلیم:               اجتہاد
مادر علمی:          لکھنؤ، نجف
پیشہ:                 معلم
وجہِ شہرت:       علمی شخصیت ، مفسر قرآن ( تفسِر فصل الخطاب
بسم اللہ الرحمن الرحیم
 
امام سجاد ع سلام کے چودہ سو سالہ جشن ولادت کے موقع پر مومنیین کے لیے خصوصی تحفہ
صحیفۂ کاملہ کا تجزیاتی مطالعہ
 
تمہید:
حضرت علی(ع) ابن الحسین (ع) امام زین العابدین(ع) سلسلہ ائمہ حقہ کے چوتھے امام ہیں ۔ آپ کی ولادت کی تاریخ میں اختلاف ہے علامہ سبط الجوزی نے تذکرہ خواص الائمہ میں امام جعفر (ع) صادق کے حوالہ سے ٥، شعبان ٣٨ ہجری بیان کیا ہے لیکن بعض مورخین ١٥ جمادی الاول پر متفق ہیں۔ اکثریتی روایات کے بموجب آپ کی شہادت ٢٥ محر
دعای عظیم الشان
حضرت رسول صلى الله علیه و آله فرمود: ھر کس که ھر وقت این دعا را بخواند چنان باشد که ٣٦٠ حج کرده باشد و٣٦٠ ختم قرآن کرده باشد و ٣٦٠ بنده آزاد کرده باشد و ٣٦٠ دینار صدقه داده باشد و ٣٦٠ اندوھگین را از غم رھایى بخشد .چونحضرت رسول صلى الله علیه و آله این کلام را فرمود :جبرئیل در رسید و گفت : یا رسول اللّه ! ھر بنده از بندگان خدا و ھر امتى ازامتان تو که این دعا را در عمر خود یک بار بخواند یا محمد صلى الله علیه و آله به حرمت و جلال خودم قسم
صائب جعفری:
طلوعِ عشق
مقابلۂ حمد و نعت
بحمداللہ قم المقدسہ میں مقیم اُردو شعراء کی ’’بزم استعارہ‘‘ نے حق تعالیٰ جل‌جلاله اور حبیبِ داور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حضور نذرانۂ عقیدت پیش کرنے کے لئے ایک شعری مقابلے کا اہتمام کیا ہے، جو فی الحال صرف ایران میں مقیم اردو شعراء تک محدود ہےلہٰذا ایران میں مقیم اردو شعراء کو اس مقابلے میں شرکت کی عام دعوت ہےـ 
مقابلے میں شرکت کی شرائط:
(۱) شاعر کا ایران میں مقیم ہونا ضروری ہے۔ (۲) مقابلے میں صرف
الان تا میتونی بگوالهی و انا عبدک و ابن عبدک.قائم بین یدیک، الان ایستادم در پیشگاه تو ولی سرم پایینه.متوصل بکرمک الیک.من بنده ی خودتم، الان بگو.یه روی میخوابونتت رو به قبله، تو نماز میت امام جماعت میگه.اللهم عبدک و اللَّهُمَّ إِنَّ هَذا عَبْدُکَ وَ ابْنُ عَبْدِکَ وَ ابْنُ امَتِکَ نَزَلَ بِکَ وَ انْتَ خَیْرُ مَنْزولٍ بِهِ .یادت نره اون وقت تو خیلی تنهایی، تویی و یه عمری که باید وقف خدا میکردی و نکردی.جوونی که باید خرج خدا میکردی و
یاحق
توی این شبا دعا کنیم برای همدیگه
#موقت
فرج
حق
عبد
درک
برکت
رحمت
معرفت
حکمت
مغفرت
عافیت
ظرفیت
مهارت
هدایت
نور.
ایمان
یقین
مخلِص و مخلَص شدن
ربنا هب لنا من ازواجنا و ذریاتنا قره اعین
و اجعلنا للمتقین اماما
ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذ هدیتنا و هب لنا من لدنک رحمت انک انت وهاب
اللهم ارنی الاشیا کما هی
الهی هب لی کمال الانقطاع الیک
درست شدن نظام بینشی ارزشی رفتاری
و
ای خدای گناهکاران
ای خدای توبه شکنان
ای خدای ناسپاسها
ای خدای قدرنشناسها
میترسم
از شدیدترین عذاب ممکنت میترسم
از دور شدن از تو
بدترین عذابِ تو اونه که رهامون کنی
میترسم از دوری
از ترسِ تو، به خودت پناه می آرم.
هاربُُ مِنکَ الیک.
به خودت قسم که هیچ حالم خوش نیست از دست کارهای خودم. موندم با حجمی از شرمندگی مقابل تو و لطفهای همیشگیت. خدا حتی نمیخوام حرف بزنم دیگه خودت میدونی، خدایا ببخشجهنم ترسناکه، چون نشون  دهنده ی خشم و نبخشیدن توعه.
فلسفہ نزول بلاء

) بالخصوص ابتلائے صالحین 
تحقیق: صائب جعفری

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم



خلاصہ:

  امتحانات الہی اور نزول بلا ایک مہم مسئلہ ہے جس پر تحقیق کی ضرورت ہر دور میں ہے ۔بالخصوص وہ امتحانات جو خدا وند کریم نے اپنے اولیاء سے لئے ان کا سبب اور فلسفہ کیا ہے؟  خدا عالم کل ہونے کے باوجود آخر کیوں امتحان لیتا ہے ؟اور ان امتحانات کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟۔اس تحقیق میں امتحان اور نزول بلا کے عالم مادہ کا خاصہ ہونے کے عنوان سے زیادہ بحث نہیں کی گئی
گفتم: خدا آخه این همه سختی؟ چرا؟
گفت: «انَّ مع العسر یسرا»
قطعا به دنبال هر سختی، آسانی است.(انشراح/۶)
*
گفتم: واقعا؟!
گفت: «فإنَّ مع العسر یسرا»
حتما به دنبال هر سختی، آسانی است.(انشراح/۷)
*
گفتم: خب خسته شدم دیگه…
گفت: «لاتـقـنطوا من رحمه الله»
از رحمت من ناامید نشو.(زمر/۵۳)
*
گفتم: انگار منو فراموش کردی!
گفت:«اذکرونی اذکرکم»
منو یاد کن تا یادت باشم.
*
گفتم: تا کی باید صبر کرد؟!
گفت: « وَ ما یدریک لَعلَّ السّاعه ت قریبا»
تو چه می دانی، شاید موعدش
امام صادق(علیه السلام) فرمودند:
«لما اجلس ابراهیم فی المنجنیق و ارادوا أن یرموا به فی النار، اتاه جبرئیل(علیه السلام) فقال:السلام علیک یا ابراهیم و رحمة الله و برکاته»
هنگامى که ابراهیم بر روى منجنیق قرار گرفت و خواستند او را به آتش افکنند، جبرئیل نزد او آمد و به او سلام کرد و گفت:
«أ لک حاجة؟» آیا حاجتى دارى؟
ابراهیم در جواب گفت: «اما الیک فلا» اما به تو نه!
«فقال جبرئیل: فاسئل ربک» جبرئیل به او گفت: پس از خدا نیازت را بخواه.
«فقال حسبى من سوا
دانلود مداحی کنار قدم های جابر با نوای حاج میثم مطیعی
دانلود مداحی ویژه پیاده روی اربعین 98
متن نوحه کنار قدم های جابر
کنار قدم های جابر، سوی نینوا رهسپاریمکنار قدمهای جابر، سوی نینوا رهسپاریمستون های این جاده را ما، به شوق حرم می شماریمشبیه رباب و سکینه، برای شما بی قراریمازین سختی و دوری راه، به شوق تو باکی نداریمفدایی زینب، پر از شور و عشقیماگر که خدا خواست، بزودی دمشقیملبیک یابن الحیدر قَطَعنا الیک الصَّحاری، الا یا امیر الفراتأضِفنا
علامه طباطبایی(ره) چگونه افطار می‌کردند؟/ قبل از افطار دقایقی به یاد مرگ باشید/ یک نذر مجرّب برای گرفتن کسب‌وکار/ روایت بی‌توجهی عاشقان اباعبدالله(ع) به جلوه‌های بهشتی
همین چند هفته قبل یک آقایی آمد که مشکل فروش ملکی را داشت. می‌گفت مدت‌هاست که هر کار می‌کنم این فروش نمی‌رود، عرض کردم که یک مقداری نذر کن برای ایتام سادات، جلسه بعد آمد و گفت ملک فروش رفته!
 
گروه معارف-رجانیوز: شب‌های ماه مبارک رمضان در مسجد لولاگر محف
بی‌کمالی از خاندان شریف سقراط را به پستی نسب و عدم نجابت سرزنش کرد. سقراط گفت: «شرف و بزرگیِ قبیلۀ تو در تو به آخر رسیده، ولی شرف و بزرگیِ قوم و قبیلۀ من از من آغاز می‌شود. پس من گرامی‌ترین قوم خویش‌ام و تو مایۀ ننگِ قوم خویش.»[1]
تاج شاهی طلبی، گوهرِ ذاتی بنمای
ور خود از تخمۀ جمشید و فریدون باشی
حافظ شیرازی

[1] الیک انتهی شرف قومک، و منّی ابتدء شرف قومی؛ فأنا افخر قومی و أنت عار قومک. – علی میرخلف زاده، داستان‌هایی از فضائل علما، انتشارات محم
اگرچه دعاهای زیادی از امامان معصوم (ع) نقل شده است که مورد اجابت
واقع شده و سریع الاجابة هستند، که ذکر متن آنها در این جا مقدور نیست و
فقط به ذکر اسامی چند مورد که دارای اهمیت خاص هستند اشاره می شود:
 
1. دعای توسل
 
2. دعای فرج
 
3. دعای اسم اعظم
 
4. دعای مقاتل بن سلیمان از امام سجاد(ع)
 
5. دعایی تحت عنوان سریع الاجابة: از امام موسی بن جعفر (ع) با این شروع که: «اللهم انی اطعتک فی احب الاشیاء الیک و »
 
6. دعایی از امام صادق (ع) که هر کسی ده بار یا
دازیم به شبایی نزذیک میشیم که قظره قطره اشکت میاد و چشم به فضل و بخشش میبنذیشبی که جوری تو اغوشش ارومی و اشک میریزی که اون محاله دست خالی تو رو رد کنه.با دلت فرباذ بکشی ظلمت نفسی و بگی یا راد ما قدفات.هرچی در اثز گناه ازم گرقته شدهرچی به خودم ظلم کردم تو میتونی برشون گردونیتو میتونی همه ی روزای خوبی زو که با گناه گذروندم تبدیل کنی به روزای خوب.من همونیم که جوونیشو تو گناه فزسوده کرده.هربت الیک. باز به سمتت فرار کردم.باز اومدم تا ارومم کنی
من و همسرم با آدمای زیادی رابطه داریم. آمریکایی ، اروپایی ، چینی ، عراقی ، استرالیایی ، اماراتی و از ایرانیها هم که تقریبا همه اقوام و مذاهب. تو این چند سال زندگی مشترکمون داخل و خارج از ایران ، چندین بار میزبان و مهمان این مدل آدما بودیم. از بین این رفت وآمدها ، هر بار که بطور خاص با اهل تسنن عزیزمون همکلام و همسفره شدم ، به خلأ بزرگ زندگیشون فکر کردم. به نعمتی که زندگیای ما رو بقدری پر کرده که مثل ماهی وسط آب نمیفهمیم غرق چه آب گوارایی هستیم. ب
عیدسعیدغدیرخم عیدولایت وامامت برتمام رهپویان راه حق وحقیقت مبارک باد
قال الله تبارک وتعالی فی القرآن الکریم :یاایهاالرسول بلغ ماانزل الیک من ربک وان لم تفعل فمابلغت رسالته والله یعصمک من الناس ان الله لایهدی القوم الکافرین سوره مبارک مائده آیه 67
این آیه مبارکه 3مرتبه برپیامبراکرم نازل شدوتمام زحمات پیامبرمبتنی برتعیین جانشینش دروادی غدیرخم قرارگرفت وآن بزرگواربازیبایی کامل درطول دوساعت خطبه خوانی (خطبه غدیریه) امیرالمومنین علی علیه
مناجات شعبانیه دعایی است که از حضرت علی علیه السلام نقل شده و بقیه ائمه هدی علیهم السلام نیز این دعا را می خواندند. این نکته نشانگر عظمت این مناجات است. چون ائمه بر اساس تجلی خاص و احوال مختص به خود دعا و مناجات دارند. در فقره ای از این دعا آمده است: الهی هب لی کمال الانقطاع الیک و انر ابصار قلوبنا بضیاء نظرها الیک حتی تخرق ابصار القلوب حجب النور فتصل الی معدن العظمه در این فقره عبد به مقام فنای فی الله می رسد. همانگونه که در برخی مباحث اشا
یک آیه از سوره آل عمران با صدای استاد عبدالباسط که بخشی از یک تلاوتهای فوق العاده استدویی هست به نظر من. تصور کنید که به عبدالباسط گفتن یک جوری این آیه رو بخوان که حس و معنی "پس دادن" و "پس ندادن" توی صدا مشخص باشه. توجه شما رو به نحوه خواندن کلمه "الیک" مخصوصا در دو مقطع اول جلب میکنم. از اونجایی که این آیه رو دو بار میخونه (با فاصله چند دقیقه ای)، من این دو قسمت رو اینجا جدا کردم و پشت سر هم گذاشتم.
وَمِنْ أَهْلِ الْکِتَابِ مَنْ إِن تَأْمَنْهُ بِ
آیه تبلیغ و حدیث غدیر:
«یا ایهاالرسول بلغ ما انزل الیک من ربک و ان لم تفعل فمابلغت رسالته والله یعصمک من الناس »(مائده 66)
ای پیامبر، آنچه از طرف پروردگارت بر تو نازل شده بود برسان،و اگر این ابلاغ را انجام ندهی، رسالت خود را به طور کامل ابلاغ نکرده ای; و خداوند تو را از مردم بدخواه حفظ می کند.
همه مفسران شیعه معتقدند آیه فوق در غدیر خم درباره نصب علی(ع) نازل شده است و حدود 360 تن از دانشمندان اهل سنت نیزاین مطلب را پذیرفته اند. نامهای برخی از مفسران
فلسفہ نزول بلاء

) بالخصوص ابتلائے صالحین 
تحقیق: صائب جعفری

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

فہرست

خلاصہ:

مقدمہ

فصل اوّل۔ کلیات و مفاہیم

۱۔ مفہوم ابتلأ

۲۔ مفہوم ابتلأ خود قرآن کی نگاہ میں

۱۔۲- پہلا حصّہ

۲۔۲- حصّہ دوم

۳- عمومیت سنت آزمائش و امتحان

۴- آزمائش کا انسانی اختیار کے ساتھ رابطہ

فصل دوم قرآنی فلسفہ ابتلاء

۱- قرآنی آیات کے پرتو میں فلسفہ ابتلأ
ادامه مطلب
فلسفہ نزول بلاء

) بالخصوص ابتلائے صالحین 
تحقیق: صائب جعفری

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

فہرست

خلاصہ:

مقدمہ

فصل اوّل۔ کلیات و مفاہیم

۱۔ مفہوم ابتلأ

۲۔ مفہوم ابتلأ خود قرآن کی نگاہ میں

۱۔۲- پہلا حصّہ

۲۔۲- حصّہ دوم

۳- عمومیت سنت آزمائش و امتحان

۴- آزمائش کا انسانی اختیار کے ساتھ رابطہ

فصل دوم قرآنی فلسفہ ابتلاء

۱- قرآنی آیات کے پرتو میں فلسفہ ابتلأ
ادامه مطلب
فلسفہ نزول بلاء

) بالخصوص ابتلائے صالحین 
تحقیق: صائب جعفری

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

فہرست

خلاصہ:

مقدمہ

فصل اوّل۔ کلیات و مفاہیم

۱۔ مفہوم ابتلأ

۲۔ مفہوم ابتلأ خود قرآن کی نگاہ میں

۱۔۲- پہلا حصّہ

۲۔۲- حصّہ دوم

۳- عمومیت سنت آزمائش و امتحان

۴- آزمائش کا انسانی اختیار کے ساتھ رابطہ

فصل دوم قرآنی فلسفہ ابتلاء

۱- قرآنی آیات کے پرتو میں فلسفہ ابتلأ
ادامه مطلب
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآیَاتِنَا أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَکَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَذَکِّرْهُمْ بِأَیَّامِ اللَّـهِ ۚ إِنَّ فِی ذَٰلِکَ لَآیَاتٍ لِکُلِّ صَبَّارٍ شَکُورٍ
وعدۀ «انا رادوه الیک و جاعلوه من المرسلین» قلب ام‌موسی را آسود و حزن و خوف از آن زدود تا طفل به آب سپارد؛ اما باز، «إِنْ کَادَتْ لَتُبْدِی بِهِ». دیدن تحقق وعدۀ الهی اثر دیگری دارد «فَرَدَدْنَاهُ إِلَىٰ أُمِّهِ کَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَلَا تَحْزَنَ
• نکته‌ای که از : «وماانزل الیک و ماانزل من قبلک»سوره بقره، آیه ۴ استفاده می‌شود اینست که: خط روشن نبوت یک خط واحد است و خطوط جداگانه و مختلف نیست، یعنی اگر شما ایمان به همه‌ی پیغمبران دارید لازمه‌اش این است که همه‌ی پیغمبران سخن واحد یا سخنی مکمل سخن یکدیگر آورده باشند، و الا اگر بین سخن‌های آن‌ها تناقضی وجود داشته باشد ممکن نیست به همه ایمان داشته باشید، زیرا نمی‌شود انسان، هم به کسی اعتقاد داشته باشد و هم به کسی دیگر که ضد اوست،‌ چن
بسم رب الرفیقعکسی از خوشه پروین
کتبتُ الیک والعبراتُ تَجریعلی الخدّینِ رشّاً بعدَ رشِّ (رَشّی)وکنّا فی اجتماعِِ کالثّریّا (ثریا=پروین)وصیّرنا اّمانُ بناتِ نعشِِ (نعشی)
برایت نامه نگاشتمو اشک‌هایم دائماً (پشته‌پشته) روی گونه‌هایم می‌بارد
من و تو در اتحاد و اجتماع، مثل خوشۀ پروین بودیم
اما زمانه ما را مثل بنات النعش از هم دور نمودپ.ندر ادبیات فارسی خوشه پروین(ثریا) نماد اجتماع و پیوستگی ست و بنات نعش نماد جدایی و گسستگی. چرا که خوشه پرو
شب ضربت امیرالمومنین علیه السلام
مسجد  لہو  لہو  ہے  مصلی  لہو لہو
ہے  آج  قلب   شاہ   مدینہ   لہو  لہو
اپنے لہو میں تر ہوئے یوں شیر کردگار
ہوتا  ہے  جیسے  کوئ  ذبیحہ  لہو لہو
ـــــــــــــــــــــ
حقانیت کا  ایک  نگر   جنت   البقیع
باطل کے سورماؤں کا ڈر جنت البقیع
ہر اک  مکان کا ہے  جگر  خانہ  خدا
پر  خانہ خدا  کا جگر  جنت  البقیع
ــــــــــــــــــــــ
امام حسین (ع) اور قرآن
*باطل جو چاہتا تھا وہ کرنے نہیں دیا*
*اسلام کو حسین نے مرنے نہیں د
سجاد جلیلی - وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآیَاتِنَا أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَکَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَذَکِّرْهُمْ بِأَیَّامِ اللَّـهِ ۚ إِنَّ فِی ذَٰلِکَ لَآیَاتٍ لِکُلِّ صَبَّارٍ شَکُورٍ
وعدۀ «انا رادوه الیک و جاعلوه من المرسلین» قلب ام‌موسی را آسود و حزن و خوف از آن زدود تا طفل به آب سپارد؛ اما باز، «إِنْ کَادَتْ لَتُبْدِی بِهِ». دیدن تحقق وعدۀ الهی اثر دیگری دارد «فَرَدَدْنَاهُ إِلَىٰ أُمِّهِ کَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ
سجاد جلیلی - وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآیَاتِنَا أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَکَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَذَکِّرْهُمْ بِأَیَّامِ اللَّـهِ ۚ إِنَّ فِی ذَٰلِکَ لَآیَاتٍ لِکُلِّ صَبَّارٍ شَکُورٍ
وعدۀ «انا رادوه الیک و جاعلوه من المرسلین» قلب ام‌موسی را آسود و حزن و خوف از آن زدود تا طفل به آب سپارد؛ اما باز، «إِنْ کَادَتْ لَتُبْدِی بِهِ». دیدن تحقق وعدۀ الهی اثر دیگری دارد «فَرَدَدْنَاهُ إِلَىٰ أُمِّهِ کَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ
گوشی رو یک عالمه بار کوک کرده بودم و تو آخری‌هاش بالاخره بیدار شدم. صبح نوزدهم و بیست و یکم رو از دست داده بودم و الان هم داشتم تنبلی می‌کردم که پاشم. ولی بالاخره بلند شدم و رفتم. شش و پنجاه و نه دقیقه از بازرسی حرم رد شدم و قبل از هفت و نه دقیقه زیارت کرده بودم! از نزدیک نزدیک نزدیک، نه فقط دستم که کاملا خودم چسبیدم به ضریح. بعد از بیست و پنج سال و پنج ماه و دوازده روز بالاخره داخل ضریح رو دیدم و حظش رو بردم. ای اونایی که میگین ضریح یه تیکه فه، ب
مقدمه‌
سال دهم هجرت که مسلمانان همراه پیامبر اکرم صلّی الله علیه .وآله مراسم حج را به پایان رساندند و آن سال، بعدا «حجة الوداع» نام گرفت، پیامبر اکرم صلّی الله علیه .وآله عازم مدینه گردید. فرمان حرکت صادر شد. هنگامی که کاروان به سرزمین «رابغ» در سه میلی جحفه که میقات حجاج است، رسید امین وحی در مکانی به نام «غدیرخم» فرود آمد. آیه:«یا ایها الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک و ان لم تفعل فما بلغت رسالته والله یعصمک من الناس».نازل شد که ای پیامبر، آنچ
اتل ما اوحی الیک من الکتاب و اقم الصلاة ان الصلاة تنهی عن الفحشاء و المنکر و لذکر الله اکبر و الله یعلم ما تصنعون
ترجمه آیات
آنچه از کتاب به تو وحی شده بخوان و نماز به پادار که نماز از فحشاء و منکرات جلوگیری می کند وذکر خدا بزرگتر است و خدا می داند که چه می سازید.
نمازاز فحشاء و منکر بازمی دارد.
و سیاق آیات شاهد بر این است که: مراد از این بازداری، بازداری طبیعت نماز ازفحشاء و منکر است، البته بازداری آن به نحو اقتضاء است نه علیت تامه، که هر کس نما
باسلام دوست عزیزی که پرسیدند "آیا دعای  شریف افتتاح را در غیر ماه مبارک رمضان میشه خوند؟"بله. البته می تونید فرازهایی از این دعای شریف را که براتون دلچسب تره، وِرد همیشگی خودتون قرار بدهید. مثلا این قسمت که: «اللهم ماعرفتنا من الحق فحملناه وما قصرنا عنه فبلغناه» ببینید چقدر همین دعای کوتاه، پر محتوا وکامله! همینطور قسمت بعدش: «اللهم المم به شعثنا واشعب به صدعنا. تا: انک تهدی من تشاء الی صراط مستقیم». فرازهای معروفش هم همین طور:
دیروز سالروز شهدای حکی بود. 14 شهیدی که نشان دادند در روزهای سخت، هر جا که لازم می شد نیروها پا به رکاب بودند. نمی گفتند مثلاً من در تبلیغات هستم. یا من در روابط عمومی هستم. کار عملیاتی کار من نیست!می گفتند فلان جا درگیر است. بچه ها از ستاد و واحدهای دیگر به کمک نیروهای عملیاتی می آمدند. یعنی انقلاب را با چنگ و دندان حفظ می کردند. نه مثل الانی که برخی انقلاب را با چنگ و دندان نصف می کنند!بیشتر از همه رفتار برخی که مدعی «استاد اخلاق» و یا «سردار»
دو حادثه بسیار مهمّ و بزرگ در تاریخ اسلام رخ داد که از یکی رسالت و از دیگری امامت به وجود آمد. نخستین حادثه، نزول وحی بود که رسالت پیامبر(ص) را در برداشت. دومین حادثه، غدیر بود که امامت را به وجود آورد و در حقیقت ادامه رسالت بود. روز غدیر و امامت همان قدر اهمیت دارد که روز بعثت و رسالت. خداوند منّان نیز در قرآن به این ارتباط اشاره کرده و فرموده است: یا ایّها الرسول بلّغ ما انزل الیک من ربّک وإن لم تفعل فما بلّغت رسالته واللّه یعصمک من النّاس ان ال
ایتام آل محمد (صلی الله علیه و آله و سلم )
در روایت ائمه - علیهم السلام - آمده است که آن حضرات، پدران واقعی شیعیان هستند؛ شیعیانی که در روزگار تلخ غیبت، یتیمانی به شمار می آیند که فراق پدر از یک سو و هجوم دشمنان از سوی دیگر، آنان را در تنگنا قرار داده است و باید شکوه به خدا برند و بگویند:اللهم! انا نشکو الیک فقد نبینا و غیبة ولینا و کثرة عدونا و قلة عددنا و شدة الفتن بنا(517).خداوندا! از فقدان پیامبران - صلی الله علیه و آله و سلم - و غیبت امام زمانمان و
13-آیا می دانید ابلاغ پیام غدیر ؛ دشوارترین تکلیف پیامبر(ص) بوده است ؟
آنهایی که در سقیفه نشستند سوابقشان با پیامبر طولانی بود و تازه مسلمان شده نبودند. بعضی از اینها از مکه مسلمان شدند و با پیغمبر در آن هجرت بودند. ولی با این همه زیر بار نرفتند و با استدلال‌هایی که اگر علی(ع) بیاید اختلاف پیدا می‌شود.
در آستانه عید غدیر خم هستیم؛ عیدی که در واقع سالگرد ــ به تعبیری ــ سخت ترین تکلیف رسول اعظم(ص) بود؛ طوری که خداوند خطاب به نبی اعظم فرمود: "بلغ م
قرآن را که باز میکنی خودش را معرفی می‌کند : 
ذلک الکتاب لا ریب فیه، کتابی ست که در آن شبهه ای نیست
هدی للمتقین ، برای متقین 
اما این متقین چه کسانی هستند؟
الذین یومنون بالغیب، و یقیمون الصلاه، و مما رزقناهم ینفقون
( چقدر از این واج آرایی ق/غ حظ میکنم.)
والذین یومنون بما انزل الیک، و ما انزل من قبلک، و بالاخره هم یوقنون
( غیب و آخرت را داشته باشید اینجا. هنوز به خوبی در موردشان نمی‌دانیم)
اولئک علی هدی من ربهم، و اولئک هم المفلحون
بله این هدایت
در
تمام 114 سورۀ قرآن کریم آیاتی دربارۀ عظمت قرآن این سرچشمۀ همۀ علوم و
کتاب اخلاق و عرفان و فقه و قرآن آمده است که خیلی از آیات چند بار تکرار
شده است و تکرار آیه نشانۀ اهمیت آن است اما برای رعایت اختصار در این بخش
به همین چند آیه اکتفا می کنیم .   1- « ذلک االکتاب لا ریب فیه هدی للمتقین » (بقره ،1) ؛ این کتابی است که شکی آن نیست و راهنمای متقین است .
  2- « و ان کنتم فی ریب مما نزلنا علی
عبدنا فاتو بسورة من مثله وادعو شهداءکم من دون الله ان کنتم صادقی
راه دعا از دیدگاه امام صادق(ع)
شخصى خدمت امام صادق(ع) عرض کرد: دو
آیه در قرآن است که تأویل و معناى آن را نمی ‏دانم. یکى «ادعونى استجب لکم» است، که
ما هر چه دعا می ‏کنیم، اجابت نمی ‏شود. حضرت فرمود: «من سر عدم اجابت دعایتان را به
شما می ‏گویم. اگر تو خدا را در آن چه دستور فرموده اطاعت کنى و آن گاه او را
بخوانى، دعایت را اجابت می ‏کند، ولى تو با (دستورهاى) او مخالفت کرده، نافرمانی ‏اش می کنى. او نیز اجابت نمی ‏کند. با این حال، اگر خدا را از راهش بخوا
سریال پایتخت | فصل پنجم | قسمت 14
خانواده‌‌ نقی معمولی به دلایل منطقی مجبور می‌شوند سر از یک کشور خارجی (قبرس) در بیاورند و آنجا با ماجراهایی گره می‌خورند که همبستگی خانوا.

آهنگ حمید هیراد - آهو
دانلود آهنگ حمید هیراد - آهو متن آهنگ حمید هیراد - آهو Hamid Hiraad - Ahoo ( حمید هیراد - آهو )

موزیک ویدیو محسن ابراهیم زاده - علاقه محسوس
Mohsen Ebrahimzadeh - Alaghe Mahsos ( محسن ابراهیم زاده - علاقه محسوس - تیزر )

سریال ساختمان پزشکان قسمت 16
ساختمان پزشکان قسمت شانزدهم
بررسی مرسدس کلاس C کبریولت در تورنتو
کارتست - رامین علائم مرسدس کلاس C کبریولت در تورنتو کانادا برای تیم ما بررسی کرده و نکات جالب این خودرو گفته میشه

۱۰ ایده جدید ماین کرافت ( پارت اول )
با ده تا از ایده های جدید اومدم تا شما برای وسایل خانه استفاده کنید ، و از هر چیز دیگه مهم تر لایک و نظر یادتون نره .

اینترو جدیدم ساخت خودم*_*
این اینترو جدیدم دوستان هم در ویدیو های آپارات هم در یوتیوب لطفا در تلگرام به اسم mobina side ودر یوتیوب به همین اسم دنبال
قرآن از قول خود قرآن
در تمام 114 سورۀ قرآن کریم آیاتی دربارۀ عظمت قرآن این سرچشمۀ همۀ علوم و کتاب اخلاق و عرفان و فقه و قرآن آمده است که خیلی از آیات چند بار تکرار شده است و تکرار آیه نشانۀ اهمیت آن است اما برای رعایت اختصار در این بخش به همین چند آیه اکتفا می کنیم .   1- « ذلک االکتاب لا ریب فیه هدی للمتقین » (بقره ،1) ؛ این کتابی است که شکی آن نیست و راهنمای متقین است .
  2- « و ان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتو بسورة من مثله وادعو شهداءکم من دون
هر چه ما از اسلام دورتر شده‌ایم و پیام مبعث را کمتر مورد توجّه قرار داده‌ایم، زندگی بر ما مسلمانان - در دوره‌های مختلف - مشکلتر شده است. پیام مبعث را میشود در قرآن، در بخشهای برجسته‌ای جستجو کرد. من دو قسمت از این پیام عظیم را اشاره میکنم که ببینید چقدر برای ما مسلمانان مهم است و چطور در مقابل ما برنامه و راه قرار میدهد: یکی این پیام است که در آیاتی از قرآن، به آن اشاره شده است؛ از جمله این آیه که میفرماید: «بسم‌اللَّه‌الرّحمن‌الرّحیم. کتا
  با فوت علامه صادقی (رض) این مسئله برای پرسشگرانش پیش آمده است که از چه کسی پرسش کنیم. در جواب این عزیزان باید گفت همانطور که در اینجا آمده است از نظر علامه صادقی (رض) بر مبنای قرآن؛ پیروی از احسن القول مهم است نه زنده یا مرده بودن مرجع تسئیلاحسن القول نیز همانست که در رساله توضیح المسائل نوین علامه صادقی (رض) آمده است. اما مسئله بعدی اینجاست که با مسائل جدید چه باید کرد؟ برای جواب به این سوال، از آنجایی که فقیه قرآنی کمتر یافت می‌شو
قضا و شفا
قرآن گاهی رابطه رهبران الهی با جامعه را، رابطه قاضی آزاده با جامعه می داند و رابطه وحی با جامعه را رابطه قانون عدل و قضا با جامعه تلقی و گاهی آن را به صورت دارو و شفا تبیین می کند:
«انا انزلنا الیک الکتاب بالحق لتحکم بین الناس بما اریک الله» (86)
یعنی ما این کتاب را نازل کرده ایم تا تو که قاضی آزاده هستی، بر اساس قسط و عدل، حکم کنی و قانون هم، که قرآن کریم است، قانون آزاد است و آن را حق به تو ارائه داده است؛
«لا یاتیه الباطل من بین یدیه و ل
بسم الله الرحمان الرحیمتفسیر جوامع الجامع- سوره مبارکه یوسف-آیات (بروز رسانی20 خرداد98)بِسْمِ اَللّٰهِ اَلرَّحْمٰنِ اَلرَّحِیمِ .
الر تِلْکَ آیٰاتُ اَلْکِتٰابِ اَلْمُبِینِ(1) إِنّٰا أَنْزَلْنٰاهُ قُرْآناً عَرَبِیًّا لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ (2) نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ أَحْسَنَ اَلْقَصَصِ بِمٰا أَوْحَیْنٰا إِلَیْکَ هٰذَا اَلْقُرْآنَ وَ إِنْ کُنْتَ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ اَلْغٰافِلِینَ (3) إِذْ قٰالَ یُوسُفُ لِأَبِیهِ یٰا أَبَتِ إِنِّی
بسم‌الله
خیره می‌شوم به قابِ عکسِ روی میزم
به چشم‌های بهترین‌های زندگی‌ام
پدرم، شاهِ دلم
مادرم، ملکه‌ی من
خواهرم، نگینِ قلبم
برادرم، دلیلِ خنده‌های از ته دل‌م
بعد؛
تمام روز‌های این سال‌ها از جلوی چشمانم می‌گذرد، با همه‌ی بالا و پایین‌هایش، تلخی‌ها و شیرینی‌هایش،
و نا‌خود‌آگاه زیر‌لب زمزمه می‌کنم:
رب من! «هب لب کمال الانقطاع الیک»
ابن عربی در کتاب العبادله در زمینه بهشت گوید: جنت را از آن جهت جنت گفته اند که حجاب بین تو و حق است. زیرا بهشت محل شهوات نفس است  اگر خدا کسی را بخواهد او را از شهوتش به دور می کند و از دیده اش پرده را بر می دارد. پس از بهشت غایب می شود در حالی که در آن است. پس پروردگار خود را می بیند.   شیخ بهشت را حجاب برای مشاهده حق می داند و آن را محل شهوات نفسانی می داند خواه آن شهوات ظاهری باشد و یا حتی معنوی و باطنی. در قرآن در باب بهشت آمده و فیها ما تشته
دعاى ھفت ھیکل
دعاى ھفت ھیکل از جمله ادعیه شریفه اى است که ھر کس آن را بخواند یا در نزد خود نگاھدارد خداوند تبارک و تعالى او را از غیبت وبدگویى مردمان نگاھدارد و دشمنان او را مغلوب نماید و در بعضى از کتب زیاد بر این مطلب خواص و حسنه نوشته اند ھر کس مایلباشد به آن مراجعه نماید.ھیکل اولبسم اللّه الرحمن الرحیماعیذ نفسى باللّه العلى العظیم اللّه لا اله الا ھو الحى القیوم لا تاخذه سنه و لانوم له ما فى السموات و ما فى الارض من ذالذىیشفع عنده الا باذن
هرگاه کسی کندر و سندروس را بخور کند و در آنحال سوره ی صافات را تا شهاب ثاقب بخواند و بعد از این دو کلمه بگوید:احضروا یا فلان و بجای فلان نام یکی از پادشاهان جن را ببرد .یکی از ملوک جن ظاهر میشود. احضار جن۲وقتی شب ۴شنبه از نیمه گذشت.می توان این احضار را در اتاقی نیمه تاریک و به تنهایی انجام داد. طریقه ای آن اینچنین است که آیات بیست ونهم تا سی و یکم از سوره ی احقاف را ۱۰۵بار بخوانید.یکی از جنیان ظاهر خواهد شد و ممکن است در هر شکلی یاشد اما خوف ن
 
پاسخ اجمالی
اگرچه انسان می‌تواند اولیای الهی را در پیش‌گاه خدا شفیع خود قرار دهد،[1] اما این بدان معنا نیست که خود مستقیماً نتواند با خدایش راز و نیاز کند، بلکه بر عکس انسان می‌تواند با عبودیت و بندگی به تدریج به جایی برسد که خواسته‌هایش را مستقیماً و بدون هیچ واسطه‌ای از خدا طلب کند، چنان‌که خود فرمود: «. ادْعُونِی أَسْتَجِبْ لَکم‏ .»؛[2] مرا بخوانید تا شما را اجابت کنم.[3]
در همین راستا است که امام علی(ع) - که خود از بزرگ‌ترین شفیعان رو
شهردار سابق شاهین شهر گفت: از محضر عزیزان مرخص و همگان را به همدلی و کار و تلاش خالصانه و خداپسندانه جهت خدمت به شهروندان شهر بافرهنگ و زیبای شاهین شهر دعوت می نمایم.
   به گزارش پایگاه خبری صدای جویا از اصفهان، شب گذشته ۲۲ مردادماه ۱۳۹۸ هیات انطباق مصوبات شوراهای اسلامی شهرستان شاهین‌شهر و میمه مصوبه جلسه یک‌صد و بیست و هشتم شورای اسلامی شاهین‌شهر مبنی بر برکناری حمید عشقی از سمت شهردار شاهین‌شهر و سرپرستی حمیدرضا فدایی را تائید کرد. ب
نگاهی
به توصیه‌های کتاب المراقبات برای ماه مبارک شعبان (شعبان ماه رسول خداست) www.farsnews.com و هر کس که منزلت این دعوت بزرگ را بشناسد، به
ناچار اهتمام به خرج می‌دهد، تا مگر مشمول آن شده، در آن داخل شود و همچنین جانشین
و خلیفه رسول اکرم صلی الله علیه و آله، امیرالمؤمنین علی(ع) فرمود: از آن زمان که
شنیدم منادی رسول خدا صلی الله علیه و آله ندا می‌داد، روزه ماه شعبان از من
فوت نشد پس اگر خدا بخواهد پس از این نیز روزه شعبان از من فوت نخواهد شد، ت
بداههء
شاعران راه راه
به
مناسبت میلاد باسعادت آقا امان زمان(عج)
تو می آیی
و شادیِ لحظه ها حد ندارد
دلم جز
دلت با کسی رفت ‌وآمد ندارد
به دل می
نشیند نگاه تو، خال سیاهت
که دریای
مهرت حدیثی به جز مَد ندارد
نفس می
کشی، اطلسی می دمد از دم تو
قدم می
زنی سرو می روید از ردّ پایت
تو
آرامش لحظه های غریب زمینی
دل عالمی
تنگ اعجاز لحن صدایت
وزیده
هوای تو از شرق تا غرب عالم
ز مهتاب
رویت شده چشم عالم منور
برای
سرودن ز تو واژه ای نیست درخور
مگر سیلی
از اشک جاری ش
ربات نینجاگرام چیست؟ایران گستر در صدد آن است تا شما عزیزان را با تمامی ترفند های موجود در اینستاگرام و هرچه بهتر شدن پیچ شما یاری کند و تمامی این مقالات را به صورت کاملا رایگان در اختیارتان قرار میدهد, پس با ما همراه باشید. نینجاگرام یک ربات همه کاره و کاملا اتوماتیک است که شما با آن قادر خواهید بود اکانت اینستاگرام خودتان را به صورت کاملا اتوماتیک مدیریت کنید .شما با این برنامه میتوانید هر چقدر لایک و فالوور به صورت کاملا اتوماتیک و حرفه
آهو: جئیران، مارال، قیزال، کوپکر (نوعی آهو)آهو بره (بچه): جویور، اه یلیکآهو ماده: ینکاردک: اؤردک، بیلیاردک ماهی: دورنا بالیغیاردک نر: سونااردک وحشی: چؤل اؤرده ییاز انواع اردک ها: آینالی، گوله ین قوش، فیتله ین جوره، جورهاسب: آتاسب ابلق: گه ین آتاسب اصیل: جنیس آتاسب باری (بارکش): انک، یابی، یوک آتیاسب به رنگ زرد و روشن: قولااسب بور: آل آتاسب پروار: کوهلن آتاسب رام نشده: قارا یهر، قولان، داش تولکاسب آبی: دنیز آیغیری، دنیز آتیاسب سرخ موی: کهر، ک
بسم‌الله
یکی از وبلاگ های دعوت عمومی کرده به چالش، این بار چالش دعای منتخب! حالا منم و یک مفاتیح، یادگار سفرهای عمره و حج که بعدها همراه پیاده روی های اربعینم هم بود. در میان گشت های سعودی، کوچکی اش باعث می شد راحت بین وسایل و در جیبم مخفی اش کنم تا بتوانم صفحه به صفحه اش را نفس بکشم، ببلعم.
حالا از کدامش را بنویسم!؟
دعای عهد را بنویسم، همان که گفته‌اند هر روز بخوانم، سعی می کنم، اما گاهی خواب، کار دیگر مانع می شود. گاهی زمزمه می کنم: اللَّهُمَ
غدیر، چشمه حیات
غدیر نامی پرآوازه و آشنا در وادیِ خم، چشمه‌ ی حیاتیست که تشنگان حقیقت در کنار آن از آبیِ زلال، حبّ ولایت و امامت نوشیدند و در سایه‌ سار شجره‌ طیبه ‌‌نبوت و امامت از ثمره‌ آن غرق نعمت شدند.
غدیر فراتر از ظرف مکانی، تداعی‌کننده‌ رویدادی عظیم در تاریخ پرفراز و نشیب اسلام است. هنگامه‌ ای که ندای جبرییل در گستره آسمان طنین‌انداز شد: «یَا أیُهَا الرَّسول بلغ ما انزل الیک من ربک و ان لم‌تفعل فما بلغت رسالته…» و این دستان علی ب
پرسش:
اگر
بخواهیم که اموات را در خواب ببینیم این باعث اذیت شدن اموات نمی شود؟ اگر
از مردگان بخواهیم از جایگاه خودشان اطلاعاتی بدهند اجازه اینکار را دارند
یا خیر؟
پاسخ:
در
ابتدا باید اشاره شود که این کار سبب اذیت آنها نمی شود . در باره فراز
دوم باید گفت ممکن است انسان از طریق خواب از وضع مردگان اگاه شود ولی برای
همگان این مسله رخ نمی دهد .، اطلاع از امور برخ برای کسی غیر از انبیا و
اولیا (ع) میسور نیست . از همین رو در آموزه های عرفانی از برزخی ک
قیمت روز انواع لنت ترمز در بازار
لیست قیمت لنت ترمز در طول روز بروز رسانی می شود , شما می توانید قیمت انواع مختلف لنت ترمز مورد نظر خود را از لیست زیر مشاهده و با دیگر قیمت های لنت ترمز مقایسه کنید. نرخ های درج شده در این لیست , شروع قیمت فروشندگان برای لنت ترمز در بازار می باشد.
آخرین بروز رسانی قیمت لنت ترمز در تاریخ سه شنبه, ۰۹ مهر ۱۳۹۸ ساعت: ۱۶:۱۵ انجام شده است.
 
 


عنوانقیمتتصویر


ایسر لنت ترمز جلو برلیانس H220
284,000 دویست و هشتاد و چه
چهل مناجات عاشقانهرحیم کارگر محمدیاری«سیدی! عبدک ببابک، اقامته الخصاصة بین یدیک، یقرع باب احسانک بدعائه فلا تعرض بوجهک الکریم عنّی و اقبل منّی ما اقول».[1]ای
مولای من! بنده‎ات بر در ایستاده و تو را می‎خواند و درب احسانت را به
مناجات‎هایش می‎کوبد. پس از راه بزرگواری روی از من مگردان و آنچه می‎گویم
بپذیر.خــدایــا بر در تـو بندة تـوسـتهمی خواهان آن گل خندة توستتو روی نازنیـن از مـن مـگـردانبـزرگـی و کـرم زیـبنـدة تـوست«اللهم! إنّی اتوب
  عجله، ضد تأنی است و در کتاب مفردات، معنای آن طلب شئ، پیش از وقت مناسب آن آمده است. عجله غالباً با حماقت همراه است و معمولاً اعمالی که از روی عجله انجام می‌گیرد، بدون فکر. تأمل است. از این رو قرآن کریم سخن کسانی را که دنیای فراهم و عاجل را بر آخرت ترجیح دادند، چنین نقل می‌کند: 1- «لو کنا نسمع او نعقل ما کنامن اصحاب السعیر»اگر ماگوش فرا می‌دادیم یا می‌اندیشیدیم، از اهل دوزخ نبودیم.(الملک- 10)عجله، صفتی ناپسند و نکوهیده است و آثار سوئی به
وامارمضان
ماه مبارک رمضان است خیلی این ماه رادوست دارم! بوی امام علی ع می دهدبوی غربت
نخلستان علی؛بوی تنهایی . بوی مسجدکوفه می دهدبوی محراب علی ع !چه سخت است نتوانی
بازبان خودت حرف بزنی ؛بازبان دل !چه غربت سنگینی دارداین دنیا!
زبان درقرآن
منظوراززبان درقرآن چیست ؟
برای جواب به این سؤال بایدفرق نطق وتکلم رابدانیم
نطق
نطق یعنی سخنی که ازروی فهم وآگاهی گفته شودوتکلم سخنی که ازروی تفقه نباشد
قرآن صاحبان کلمه یااولوالالباب راصاحب نطق میداندآ
خوارج دیروز و امروز در نگاه شهید مطهری آن چه روشن است قاتلین  حضرت  امیر مومنان علی علیه السلام  گروه خوارج بودند و ابن ملجم نیز به نمایندگی از این گروه و  تفکرانحرافی  به این جنایت تاریخی دست یازید ، فلذا  یکی از اعمال مستحبی اولین شب احیاء ماه رمضان  ، گفتن صد مرتبه ذکر? اللهم العن قَتَله امیر المومنین علیه السلام ? است تا بدین وسیله از گروه خوارج  اعلام تبری و انزجار شود . حال  در کنار این عمل  مستحبی  چه خوب است

آخرین جستجو ها

Elizabeth تعزیه سنتی در شیراز وبلاگ رسمی استاد کرمیان لینک گستر - تازه های وب فارسی simin.m خرید و فروش و رهن و اجاره آموزش علوم متوسطه نمایندگی محصولات عش حیات طیبه من در کنار همسرم خوشبخت خواهم شد